جمعرات  14  مئی  2026ء
 تازہ ترین 
< >
’سپر ایل نینو‘ سے بدترین عالمی تباہی کا خدشہ
ویب ڈیسک جمعرات  24  اکتوبر  2019ء
واشنگٹن: ماحولیاتی ماہرین کی ایک عالمی ٹیم نے 1901 سے 2017 تک وقوع پذیر ہونے والے 33 ایل نینو واقعات کا جائزہ لینے کے بعد بتایا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان خطرناک عالمی ماحولیاتی واقعات کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور گزشتہ 37 سال کے دوران ہمیں چار مرتبہ ’سپر ایل نینو‘ کا مشاہدہ ہوچکا ہے جن میں عام ایل نینو سے کہیں زیادہ تباہی پھیلی ہے۔
واضح رہے کہ ’ایل نینو‘ (El Niño) سے مراد سمندری پانی کے درجہ حرارت میں بڑے پیمانے پر ہونے والا اضافہ ہے جو ایک غیر معینہ مدت کے بعد، وقفے وقفے سے رونما ہوتا رہتا ہے۔ البتہ، ایل نینو میں وسیع پیمانے پر چلنے والی سمندری ہواؤں اور بحرالکاہل میں خطِ استوا کے قریب واقع علاقوں میں بارشوں/ برف باری کا مخصوص انداز بدل جاتا ہے۔ نتیجتاً کچھ ملکوں میں شدید گرمی اور خشک سالی کی لہر آجاتی ہے تو دوسرے ملکوں میں شدید بارش، سیلاب اور برف باری سے تباہی پھیل جاتی ہے۔
یہ ایل نینو ہی ہے جس کی وجہ سے امریکا کے ساحلی شہروں کو شدید سمندری طوفانوں کا بار بار سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ افریقہ سے لے کر ایشیا اور آسٹریلیا تک، یا تو بالکل خشک سالی واقع ہوجاتی ہے یا پھر شدید بارشیں برسنے لگتی ہیں۔ دونوں ہی صورتیں انسانوں کےلیے تباہی کا پیغام ہیں۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ بیسویں صدی کی ابتداء سے لے کر اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے تک، ایل نینو کے 33 واقعات ہوئے ہیں جبکہ ان میں سے چار واقعات کی شدت بھی معمول سے کہیں زیادہ تھی۔ یہ بالترتیب 1982 میں، پھر 1998 میں اور اس کے بعد 2015 تا 2016 میں رونما ہوئے۔ اسی شدت کی بناء پر انہیں ’’سپر ایل نینو‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
شکرگڑھ ٹائمز کی پالیسی کے مطابق تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں
 
: سیکیورٹی کوڈ
برائے مہربانی خالی بکس میں سیکیورٹی کوڈ لکھیں
آن لائن سروے
پاکستان میں ہفتہ وار چھٹی کس دن ہونی چاہئے؟
       جمعہ کے دن
       اتوار کے دن
       کہیں جمعہ اور کہیں اتوار
www.shakargarhtimes.com پاکستان کی سب سے بڑی نیوز ویب سائیٹ میں سے ایک ہے۔ جس میں خبروں کے علاوہ شکرگڑھ کے قصبات اور دیہات پر مفصل مواد اور شخصیات کے تعارف اور انٹرویز موجود ہیں۔
Powered & Designed By: